Pani se Ilaj keh Qudrati Tareeqay

                                                                                                                  

پانی سے علاج کے قدرتی ذرائع 

بیماریوں کا سبب بننے والے فاسد مادوں کو قدرت نے جسم سے خارج کرنے کیلئے چار ذرائع فراہم کیے ہیں۔ سانس‘ جلد‘مسات بدن‘ بول اور براز‘ لہٰذا تازہ ہوا صاف پانی اور سورج کی روشنی فاسد مادوں کو خارج کرنے کا اہتمام کرنے والی چیزیں ہیں۔

بیماریوں کے علاج کیلئے انسان نے صدیوں کی تحقیق تجربات اور مشاہدات کی مدد سے ادویات تیار کی ہیں اور نہ صرف لاعلاج امراض کی دوائیں تلاش کرنے کی مشقت جاری ہے بلکہ انسان مختلف امراض کی معلوم دواؤں کی جگہ اور زیادہ بہتر اور مؤثر ادویات کی تیاری کے سفر کو بھی جاری رکھے ہوئے ہے لیکن علاج بالدوا کا عمل چونکہ وسائل اور سرمائے سے تعلق رکھتا ہے اس لیے قدرت نے انسان کیلئے علاج کے ایسے ذرائع بھی پیدا کیے ہیں جن پر کچھ خرچ پیش نہیں آتا۔ دوا کے بغیر علاج کے ان ذرائع میں دھوپ اور پانی بھی شامل ہے۔
تمام بیماریوں کی بڑی وجہ زندگی کا غیرقدرتی طریقہ پر بسر کرنا ہے۔ معدہ اور جگر پر اس کی قوت سے زائد بوجھ ڈال دینا یعنی ضرورت سے زیادہ کھانا‘ پینا غیرفطری غذاؤں مثلاً اچار‘ مربے‘ گرم مصالحے اور خشک مچھلی وغیرہ کے علاوہ گوشت کا کثرت سے استعمال اور غیرمخدرات منشیات و سکنات یعنی بھنگ چرس افیون ہیروئن چائے کافی تمباکو کے علاوہ سمیات مثلاً پارہ سنکھیا کچلہ وغیرہ کا استعمال بھی امراض کا باعث ہے۔
بیماریوں کا سبب بننے والے فاسد مادوں کو قدرت نے جسم سے خارج کرنے کیلئے چار ذرائع فراہم کیے ہیں۔ سانس‘ جلد‘مسات بدن‘ بول اور براز‘ لہٰذا تازہ ہوا صاف پانی اور سورج کی روشنی فاسد مادوں کو خارج کرنے کا اہتمام کرنے والی چیزیں ہیں۔
پانی انسان کےجسم کا حصہ بھی ہے اور اس کی حیات کیلئے ضروری چیز بھی۔ لیکن اسے علاج کیلئے بھی زمانہ قدیم سے استعمال کیا جارہا ہے اور یونانی طب کی کتابوں میں پانی کے ادویاتی خواص کا ذکر بڑی تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔ مرض کے ازالہ کیلئے پانی کے داخلی استعمال کے علاوہ خارجی استعمال (بالغسل) پر زیادہ زور دیا جاتا ہے۔ علاج بالغسل میں زیادہ تر حرارت سے کام لیا جاتا ہے۔ مثلاً گرم پانی‘ گرم بخارات یا ہوا وغیرہ۔ اسے علاج بالحرارت سے موسوم کرتے ہیں۔ یہ داخلی طور پر عموماً اپنی کیفیت اور سمیت کے لحاظ سے اثرانداز ہوتا ہےلیکن خارجی طور پر علاج بالغسل میں اس کا اثر جلد کے ذریعے ہوتا ہے۔ پانی کی یہ طبعی خاصیت ہے کہ جو اجسام اس سےسرد ہوں۔ انہیں گرم کر دیتا ہے اور جو اجسام اس سے گرم ہوں انہیں سرد کرتا ہے۔ اس لیے جب پانی جلد کے پٹھوں کے سروں پر پڑتا ہے تو اس کی گرمی یا سردی کے اثرات مقامی عروق شعریہ (بال سی باریک رگوں) کو پھیلاتے یا سکیڑتے ہیں جس سے ان کے اندر خون کی مقدار کم و بیش (سکڑنے کی صورت میں کم اور پھیلنے کی صورت میں زیادہ) ہوجاتی ہے۔ لیکن سارے جسم میں خون کی مقدار‘ چونکہ ہمیشہ یکساں رہتی ہے۔ اس لیے جلد کی عرق کے سکڑنے سے خون افشائیں میں چلا جاتا ہے اور ان میں اس کی مقدار زیادہ ہوجاتی ہے۔ اگر عروق میں ان کے پھیلنے سے خون زیادہ آجائے تو اندر کی اغشاء میں کم ہوجاتا ہے۔ اس طرح مختلف سمی یا رطوبی بیماریوں میں سرد یا گرم غسل سے فائدہ ہوتا ہے۔
رشاشی غسل میں پانی کی نلی کے نیچے سوراخ دار شاشہ لگادیتے ہیں جس سے پانی قطروں کی صورت میں بدن پر پڑتا ہے۔ حبابی غسل میں پانی کے بلبلے جسم کے ساتھ لگتے اور ٹوٹتے ہیں۔ اسے 92 درجہ حرارت کے پانی میں سوڈا بائیکارب حل کرکے اور ایسٹرسوڈیم سلفیٹ کے اضافہ سے تیار کیا جاتا ہے۔ ایسے چشموں کے پانی سے جس میں مختلف قسم کی دوائیں موجود ہوں یا انہی دواؤں کو پانی میں حل کرکے گھر پر غسل کرنا بہت سود مند ہوتا ہے۔ آبی غسل کی یہ قسمیں شامل ہیں۔
(الف) نمکین غسل‘ معمولی نمک کو سادہ پانی میں حل کرکے گھر پر تیار کیا جاسکتا ہے۔ (ب) کھاری غسل‘ سوڈا بائیکارب کو پانی میں ملانے سے تیار ہوسکتا ہے۔ (ج) کبریتی غسل: سلفیٹ آف پوٹاش کو پانی میں ملانے سے تیار ہوتا ہے۔ سرد غسل پیٹ کے عضلات کو مضبوط اور آنتوں کی حرکات کو معتدل بناتا ہے۔ اس سے دماغی سستی تکان‘ سردرد اور موٹاپا رفع ہوتا ہے لیکن یہ بچوں‘ بوڑھوں اور اعصاب‘ دل و شرائن کے مریضوں کیلئے مفید نہیں ہے۔ گرم غسل سے جسم کی حرارت بڑھ جاتی ہے اور پسینہ کثرت سے آنے لگتا ہے۔ یہ جوڑوں کے درد‘ عرق النساء عسرو احتباس حیض اور جلد کی بعض بیماریوں میں مفید ہے۔امراض قلب کے مریضوں کیلئے یہ مضر ہوتا ہے۔ نمکین غسل‘ درد کمر اور گٹھیاوی امراض میں فائدہ دیتا ہے۔ کھاری غسل خارش اور خراش کرنے والی جلدی بیماریوں میں سود مند ہے۔کبریتی غسل جوڑوں کے درد اور اکثر جلدی امراض میں نافع ہے۔ رشاشی غسل صدمہ شمسیہ اور عصبی اشتعال میں نفع بخش ہے۔ حبابی غسل بیخوانی کو رفع کرتا اور مسکن ہے۔